موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الاعتكاف— کتاب: اعتکاف کے بیان میں
بَابُ خُرُوجِ الْمُعْتَكِفِ لِلْعِيدِ باب: معتکف کا نماز عید کے لیے نکلنا
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ زِيَاد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِك ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ " اعْتَكَفَ فَكَانَ يَذْهَبُ لِحَاجَتِهِ تَحْتَ سَقِيفَةٍ فِي حُجْرَةٍ مُغْلَقَةٍ فِي دَارِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، ثُمَّ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يَشْهَدَ الْعِيدَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ " حضرت سُمی مولیٰ ابی بکر سے روایت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن اعتکاف کرتے تو جاتے وقتِ حاجتِ ضروری کے واسطے ایک چھت دار کوٹھری میں جو بند رہتی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے گھر میں۔ پھر نہ نکلتے اعتکاف سے یہاں تک کہ حاضر ہوتے عید میں ساتھ مسلمانوں کے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ زِيَاد ، عَنْ مَالِك أَنَّهُ رَأَى بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا اعْتَكَفُوا الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ لَا يَرْجِعُونَ إِلَى أَهَالِيهِمْ حَتَّى يَشْهَدُوا الْفِطْرَ مَعَ النَّاسِامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے دیکھا بعض اہلِ علم کو جب اعتکاف کرتے رمضان کے اخیر دہے میں تو اپنے گھروں میں نہ آتے یہاں تک کہ عید الفطر کی نماز مسلمانوں کے ساتھ ادا کر لیتے۔
قَالَ زِيَاد : قَالَ مَالِك : وَبَلَغَنِي ذَلِكَ عَنْ أَهْلِ الْفَضْلِ الَّذِينَ مَضَوْا وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَکہا امام مالک رحمہ اللہ نے: مجھ کو ایسا ہی پہنچا ہے اہلِ علم اور اہلِ فضل سے جو گزر گئے ہیں، اور یہ قول مجھ کو نہایت پسند ہے۔