موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الاعتكاف— کتاب: اعتکاف کے بیان میں
بَابُ ذِكْرِ الِاعْتِكَافِ باب: اعتکاف کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ " كَانَتْ إِذَا اعْتَكَفَتْ لَا تَسْأَلُ عَنِ الْمَرِيضِ إِلَّا وَهِيَ تَمْشِي لَا تَقِفُ " حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب اعتکاف کرتیں تو بیمار پرسی نہ کرتیں مگر چلتے چلتے، ٹھہرتی نہیں۔
قَالَ مَالِك: لَا يَأْتِي الْمُعْتَكِفُ حَاجَتَهُ وَلَا يَخْرُجُ لَهَا ، وَلَا يُعِينُ أَحَدًا إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ ، وَلَوْ كَانَ خَارِجًا لِحَاجَةِ أَحَدٍ لَكَانَ أَحَقَّ مَا يُخْرَجُ إِلَيْهِ عِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَالصَّلَاةُ عَلَى الْجَنَائِزِ وَاتِّبَاعُهَاامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص اعتکاف کرے وہ کسی کام کو نہ نکلے، اور نہ جائے اور نہ مدد کرے کسی کی، مگر حاجتِ ضروری کے واسطے نکلے، اور اگر معتکف کو کسی کام کے لیے نکلنا درست ہوتا تو چاہیے تھا کہ بیمار پرسی یا نمازِ جنازہ یا دفن کے واسطے نکلنا درست ہوتا۔
قَالَ مَالِك: لَا يَكُونُ الْمُعْتَكِفُ مُعْتَكِفًا ، حَتَّى يَجْتَنِبَ مَا يَجْتَنِبُ الْمُعْتَكِفُ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ ، وَدُخُولِ الْبَيْتِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اعتکاف درست نہیں ہوتا جب تک معتکف بیمار پرسی یا نمازِ جنازہ کے لیے گھروں میں جانے سے نہ بچے، اور نہ نکلے مگر حاجتِ ضروری کے لیے۔