موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ باب: شب قدر کا بیان
حدیث نمبر: 642
عَنْ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَنْ يَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهُ. أَوْ مَا شَاءَ اللّٰهُ مِنْ ذَلِكَ. فَكَأَنَّهُ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهِ أَنْ لَا يَبْلُغُوا مِنَ الْعَمَلِ ، مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَيْرُهُمْ فِي طُولِ الْعُمْرِ ، فَأَعْطَاهُ اللّٰهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ.علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک شخص عام معتبر سے، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائی گئیں جتنا اللہ کو منظور تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمّت کی عمروں کو کم سمجھا اور خیال کیا کہ یہ لوگ اُن کے برابر عمل نہ کر سکیں گے، پس دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر جو بہتر ہے ہزار مہینے سے۔