موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الصِّيَامِ باب: روزے کے مختلف مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 634
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، إِنَّمَا يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي ، فَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! البتہ روزہ دار کے منہ کی بُو زیادہ پسند ہے مشک کی بُو سے اللہ جل جلالہُ کے نزدیک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ چھوڑ دیتا ہے اپنی خواہشوں کو اور کھانے کو اور پانی کو میرے واسطے تو وہ روزہ میرے واسطے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا، جو نیکی ہے اس کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک ملے گا، مگر روزہ وہ میرے واسطے ہے اور اس کا ثواب میں ہی دوں گا۔“