موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الْوُضُوْءِ باب: اس باب میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں
حدیث نمبر: 63
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يُسْأَلُ عَنِ الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ بِالْمَاءِ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : " إِنَّمَا ذَلِكَ وُضُوءُ النِّسَاءِ " علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت سعید بن مسیّب سوال کیے گئے بعد پاخانے کے پانی لینے سے، تو کہا کہ یہ طہارت عورتوں کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت سعید بن مسیّب سوال کیے گئے بعد پاخانے کے پانی لینے سے، تو کہا کہ یہ طہارت عورتوں کی ہے۔ [موطا امام مالك: 63]
فائدہ:
اس جواب کے دو مفہوم ممکن ہیں، ایک یہ کہ عام طور پر عورتیں استنجاء کرتے وقت پانی استعمال کرتی ہیں، جبکہ مردوں کا عام معمول ڈھیلے استعمال کرتا ہے، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی مردوں کے لیے پانی سے استنجاء کرنا معیوب و مکروہ سمجھتے تھے جیسا کہ حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت اِبن عمر اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہم سے بھی یہی بات منقول ہے، لیکن امام مالک رحمہ اللہ اور تمام مسالک کے جمہور فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ پانی سے استنجاء کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ افضل بھی ہے، کیونکہ متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمل ثابت ہے۔
[ديكهيے گزشته روايت: 35، اور اس كا فائده]
اس جواب کے دو مفہوم ممکن ہیں، ایک یہ کہ عام طور پر عورتیں استنجاء کرتے وقت پانی استعمال کرتی ہیں، جبکہ مردوں کا عام معمول ڈھیلے استعمال کرتا ہے، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی مردوں کے لیے پانی سے استنجاء کرنا معیوب و مکروہ سمجھتے تھے جیسا کہ حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت اِبن عمر اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہم سے بھی یہی بات منقول ہے، لیکن امام مالک رحمہ اللہ اور تمام مسالک کے جمہور فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ پانی سے استنجاء کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ افضل بھی ہے، کیونکہ متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمل ثابت ہے۔
[ديكهيے گزشته روايت: 35، اور اس كا فائده]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 63 سے ماخوذ ہے۔