موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ وَالْكَفَّارَاتِ باب: رمضان کی قضا اور کفارہ کے بیان میں
حدیث نمبر: 624
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُسْأَلُ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : " أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ لَا يُفَرَّقَ قَضَاءُ رَمَضَانَ وَأَنْ يُوَاتَرَ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا ، يَقُولُ فِيمَنْ فَرَّقَ قَضَاءَ رَمَضَانَ : فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةٌ وَذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَحَبُّ ذَلِكَ إِلَيَّ أَنْ يُتَابِعَهُعلامہ وحید الزماں
یحیٰی بن سعید نے سعید بن مسیّب سے سنا، وہ پوچھے گئے رمضان کی قضا سے، تو کہا سعید نے: میرے نزدیک یہ بات اچھی ہے کہ رمضان کی قضا پے درپے رکھے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص جدا جدا رمضان کی قضا رکھے تو اس پر اعادہ لازم نہیں ہے، بلکہ وہ قضا کافی ہو جائے گی، مگر بہتر میرے نزدیک یہ ہے کہ پے در پے رکھے۔
قَالَ مَالِك : مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فِي رَمَضَانَ سَاهِيًا أَوْ نَاسِيًا أَوْ مَا كَانَ مِنْ صِيَامٍ وَاجِبٍ عَلَيْهِ أَنَّ عَلَيْهِ قَضَاءَ يَوْمٍ مَكَانَهُعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص رمضان میں بھول چوک کر کھا پی لے یا اور کسی روزے میں جو اس پر واجب ہے تو اس پر قضا ہے اس روزے کی۔