موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الْوُضُوْءِ باب: اس باب میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں
حدیث نمبر: 62
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيِّ الْمُجْمِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَإِنَّهُ يُكْتَبُ لَهُ بِإِحْدَى خُطْوَتَيْهِ حَسَنَةٌ وَيُمْحَى عَنْهُ بِالْأُخْرَى سَيِّئَةٌ ، فَإِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ الْإِقَامَةَ فَلَا يَسْعَ فَإِنَّ أَعْظَمَكُمْ أَجْرًا أَبْعَدُكُمْ دَارًا " قَالُوا : لِمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : " مِنْ أَجْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا " علامہ وحید الزماں
حضرت نعیم بن عبداللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: جس نے وضو کیا اچھی طرح، پھر نکلا نماز کی نیت سے، تو وہ گویا نماز میں ہے، جب تک نماز کا قصد رکھتا ہے، ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک بُرائی مٹائی جاتی ہے، تو کوئی تم میں سے تکبیر نماز کی سنے تو نہ دوڑے کیونکہ زیادہ ثواب اسی کو ہے جس کا مکان زیادہ دور ہے۔ کہا انہوں نے: کیوں اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! کہا: اس وجہ سے کہ اس کے قدم زیادہ ہوں گے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت نعیم بن عبداللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: جس نے وضو کیا اچھی طرح، پھر نکلا نماز کی نیت سے، تو وہ گویا نماز میں ہے، جب تک نماز کا قصد رکھتا ہے، ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر [موطا امام مالك: 62]
فائدہ:
گھر سے وضو کر کے مسجد کی طرف چلنا بہت فضیلت رکھتا ہے، مسجد اور نماز کی طرف دوڑ کر نہیں آنا چاہیے کیونکہ دوڑنے کی وجہ سے قدموں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور سکینت و وقار نہ ہو تو نمازی کی شان پر منفی اثر پڑتا ہے۔
گھر سے وضو کر کے مسجد کی طرف چلنا بہت فضیلت رکھتا ہے، مسجد اور نماز کی طرف دوڑ کر نہیں آنا چاہیے کیونکہ دوڑنے کی وجہ سے قدموں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور سکینت و وقار نہ ہو تو نمازی کی شان پر منفی اثر پڑتا ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 62 سے ماخوذ ہے۔