موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے بیان میں
بَابُ النَّذْرِ فِي الصِّيَامِ ، وَالصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ باب: روزہ نذر کا بیان اور میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 619
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُسْأَلُ : هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ ؟ فَيَقُولُ : " لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ ، وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ " علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا کہ کیا کوئی روزہ رکھے کسی کی طرف سے یا نماز پڑھے کسی کی طرف سے؟ بولے: نہ کوئی روزہ رکھے کسی کی طرف سے اور نہ کوئی نماز پڑھے کسی کی طرف سے۔