موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے بیان میں
بَابُ النَّذْرِ فِي الصِّيَامِ ، وَالصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ باب: روزہ نذر کا بیان اور میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 617
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ صِيَامَ شَهْرٍ هَلْ لَهُ أَنْ يَتَطَوَّعَ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : " لِيَبْدَأْ بِالنَّذْرِ قَبْلَ أَنْ يَتَطَوَّعَ " علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے نذر کی ایک مہینہ روزہ رکھنے کی۔ اب اس کو نفل روزہ رکھنا درست ہے؟ جواب دیا کہ: پہلے نذر کے روزے رکھ لے پھر نفل رکھے۔