موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے بیان میں
بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ باب: عاشوراء کے روزہ کا بیان
حدیث نمبر: 612
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ ، وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ " علامہ وحید الزماں
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے انہوں نے سنا سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے، کہتے تھے جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے: اے اہلِ مدینہ! کہاں ہیں علماء تمہارے؟ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرماتے تھے اس دن کو: ”یہ دن عاشورہ کا ہے، اس دن روزہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے، اور میں روزہ دار ہوں سو جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“