موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے بیان میں
بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوْ أَرَادَهُ فِي رَمَضَانَ باب: جو شخص رمضان میں سفر سے آئے یا سفر کو جائے اس کا بیان
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ فَعَلِمَ أَنَّهُ دَاخِلٌ الْمَدِينَةَ مِنْ أَوَّلِ يَوْمِهِ دَخَلَ وَهُوَ صَائِمٌ " امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب رمضان میں سفر میں ہوتے، پھر اُن کو معلوم ہوتا کہ آج کے روز شہر میں داخل ہوں گے دوپہر سے اوّل، تو روزہ رکھ کر داخل ہوتے۔
قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : مَنْ كَانَ فِي سَفَرٍ فَعَلِمَ أَنَّهُ دَاخِلٌ عَلَى أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ يَوْمِهِ وَطَلَعَ لَهُ الْفَجْرُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ دَخَلَ وَهُوَ صَائِمٌامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص سفر میں ہو اور اس کو معلوم ہو جائے کہ میں سویرے داخل ہو جاؤں گا شہر میں، پھر راہ میں اس کو صبح ہو گئی تو روزہ رکھ کر داخل ہو۔
قَالَ مَالِك : وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي رَمَضَانَ فَطَلَعَ لَهُ الْفَجْرُ وَهُوَ بِأَرْضِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ فَإِنَّهُ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اور جب رمضان میں سفر کرنے کا ارادہ کرے اور شہر ہی میں اس کو صبح ہو جائے، تو وہ اس روز روزہ رکھے۔
قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقْدَمُ مِنْ سَفَرِهِ وَهُوَ مُفْطِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُفْطِرَةٌ حِينَ طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا فِي رَمَضَانَ : أَنَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يُصِيبَهَا إِنْ شَاءَامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص سفر میں سے آئے اور اس کا روزہ نہ ہو اور عورت بھی اس کی روزہ سے نہ ہو، مثلاً حیض سے اس روز پاک ہوئی ہو، تو اس کے خاوند کو جماع کرنا درست ہے اگر چاہے۔