موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب وقوت الصلاة— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ باب: نماز کے وقتوں کا بیان
حدیث نمبر: 6
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى : " أَنْ صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا صُفْرَةٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَأَخِّرِ الْعِشَاءَ مَا لَمْ تَنَمْ ، وَصَلِّ الصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ ، وَاقْرَأْ فِيهَا بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ مِنَ الْمُفَصَّلِ " علامہ وحید الزماں
مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ظہر کی نماز پڑھ جب سورج ڈھل جائے، اور عصر کی نماز پڑھ اور آفتاب سفید صاف ہو زرد نہ ہونے پائے، اور مغرب کی نماز پڑھ جب سورج ڈوبے، اور دیر کر عشاء کی نماز میں جہاں تک تو جاگ سکے، اور نماز پڑھ صبح کی اور تارے صاف گھنے ہوں اور پڑھ فجر کی نماز میں دو سورتیں لمبی مفصل سے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ظہر کی نماز پڑھ جب سورج ڈھل جائے، اور عصر کی نماز پڑھ اور آفتاب سفید صاف ہو زرد نہ ہونے پائے، اور مغرب کی نماز پڑھ جب سورج ڈوبے، اور دیر کر عشاء کی نماز میں جہاں تک تو جاگ سکے... [موطا امام مالك: 6]
فائدہ:
"مفصل" سے مراد قرآن مجید کی ساتویں منزل ہے، اور اس پوری منزل میں ساٹھ سے زیادہ سورتیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو پارے کے چوتھائی حصے کے برابر ہو، اس لیے احناف کا یہ تاویل کرنا بالکل غلط اور صریح دھوکا ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نماز فجر کو تاروں کی موجودگی میں یعنی تاریکی ہی میں ادا کرنے کا حکم صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جو سورۃ بقرہ جتنی لمبی تلاوت کرنا چاہتے ہوں۔
نمازِ عشاء کو نیند کی آمد تک مؤخر کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اسے نصف رات سے بھی لیٹ کر دیا جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واضح فرما چکے ہیں کہ «وقت الْعِشَاءِ إِلى نِصْفِ الليل» "عشاء کا وقت نصف رات تک ہے۔" [صحيح مسلم: 612]
"مفصل" سے مراد قرآن مجید کی ساتویں منزل ہے، اور اس پوری منزل میں ساٹھ سے زیادہ سورتیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو پارے کے چوتھائی حصے کے برابر ہو، اس لیے احناف کا یہ تاویل کرنا بالکل غلط اور صریح دھوکا ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نماز فجر کو تاروں کی موجودگی میں یعنی تاریکی ہی میں ادا کرنے کا حکم صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جو سورۃ بقرہ جتنی لمبی تلاوت کرنا چاہتے ہوں۔
نمازِ عشاء کو نیند کی آمد تک مؤخر کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اسے نصف رات سے بھی لیٹ کر دیا جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واضح فرما چکے ہیں کہ «وقت الْعِشَاءِ إِلى نِصْفِ الليل» "عشاء کا وقت نصف رات تک ہے۔" [صحيح مسلم: 612]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 6 سے ماخوذ ہے۔