موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجنائز— کتاب: جنازوں کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الْجَنَائِزِ باب: جنازے کے احکام میں مختلف حدیثیں
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لِأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ أَذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ، وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ " ، قَالَ : مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ قَالَ : فَغَفَرَ لَهُ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، جب وہ مرنے لگا تو اپنے لوگوں سے بولا کہ بعد مرنے کے مجھے جلانا اور میری راکھ کے دو حصے کر کے ایک حصہ خشکی میں ڈال دینا اور ایک حصہ دریا میں، اس لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پا لیا تو ایسا عذاب کرے گا کہ سارے جہان میں ویسا عذاب کسی کو نہ کرے گا۔ جب وہ مر گیا تو اس کے لوگوں نے ایسا ہی کیا، اللہ جل جلالہُ نے خشکی کو حکم دیا اس نے تمام راکھ اکٹھی کر دی، پھر دریا کو حکم کیا اس نے بھی اکٹھی کر دی، بعد اس کے اللہ جل جلالہُ نے پوچھا: ”تو نے ایسا کیوں کیا؟“ وہ بولا: تیرے خوف سے اے پروردگار! اور تو خوب جانتا ہے، پس بخش دیا اس کو اللہ جل جلالہُ نے۔“