موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجنائز— کتاب: جنازوں کے بیان میں
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی ممانعت
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقُولُ : وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ ، إِنَّمَا مَرّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيَّةٍ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا ، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا "حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب ان کے سامنے بیان کیا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: مردہ عذاب کیا جاتا ہے زندے کے رونے سے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ بخشے ابوعبدالرحمٰن کو، انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، لیکن وہ بھول گئے یا چوک گئے، اصل اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ایک یہودن پر جو مر گئی تھی اور لوگ اس پر رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں، اور اُس پر عذاب قبر میں ہو رہا ہے۔“