موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجنائز— کتاب: جنازوں کے بیان میں
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَمَرَتْ أَنْ يُمَرَّ عَلَيْهَا بِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ مَاتَ لِتَدْعُوَ لَهُ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَا أَسْرَعَ النَّاسَ ، " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ " علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں سے ہو کر ان کے حجرہ پر سے جائے تاکہ میں دعا کروں ان کے لیے، سو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، تب کہا: آپ رضی اللہ عنہا نے: کیا جلدی لوگ بھول گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ پر نماز نہیں پڑھی مگر مسجد میں۔