حدیث نمبر: 54
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دُعِيَ لِطَعَامٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَضْلِ ذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ "
علامہ وحید الزماں

محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہوئی کھانے کی تو سامنے کیا گیا ان کے روٹی اور گوشت، پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے اور وضو کر کے نماز پڑھی، پھر اس کھانے کا بچا ہوا آیا، اس کو کھا کر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 54
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5457، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 43، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1130، 1132، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4686، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 185، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 188، وأبو داود فى «سننه» برقم: 191، 192، والترمذي فى «جامعه» برقم: 80، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 489، 3282، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 733، 737، 738، 742، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14483، 14520، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1303، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1963، 2017، شركة الحروف نمبر: 50، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 25»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہوئی کھانے کی تو سامنے کیا گیا ان کے روٹی اور گوشت، پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے اور وضو کر کے نماز پڑھی، پھر اس کھانے کا بچا ہوا آیا، اس کو کھا کر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔[موطا امام مالك: 54]
فائدہ:
یہ واقعہ محمد بن منکدر رحمہ اللہ اور اُن کے چند ساتھیوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ [ابن ماجه: 489]
یہ کھانا پیش کرنے کی سعادت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوئی۔ [ابو داؤد: 191] یہ دعوت ایک انصاری صحابیہ رضی اللہ عنہا نے ایک بکری ذبح کر کے کی تھی۔ [ترمذي: 80] دعوت کے دوران نماز ظہر کا وقت ہو گیا تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے ادا کیا، پھر واپس آ کر مزید کھانا کھایا اور نمازِ عصر کے لیے نیا وضو نہ بنایا۔ [ابوداود، ترمذي]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 54 سے ماخوذ ہے۔