موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ باب: جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 52
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُصِيبُ طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ أَيَتَوَضَّأُ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ أَبِي يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلَا يَتَوَضَّأُ " علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید نے پوچھا عبداللہ بن عامر سے کہ ایک شخص وضو کرے نماز کے لیے پھر کھائے وہ کھانا جو پکا ہو آگ سے، کیا وضو کرے دوبارہ؟ کہا عبداللہ نے کہ دیکھا میں نے اپنے باپ سیدنا عامر بن ربیعہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو (جو صحابی مشہور ہیں) کہ وہ آگ کا پکا ہوا کھانا کھاتے پھر وضو نہیں کرتے تھے۔