موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب القرآن— کتاب: قرآن کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَىٰ باب: ذکر الٰہی کی فضیلت کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ ، وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ ، وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ، وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى " . قَالَ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ : وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : " مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ "سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم کو نہ بتاؤں وہ کام جو تمہارے سب کاموں سے بہتر ہے تمہارے لئے، اور درجہ میں سب سے زیادہ بلند ہے، اور تمہارے مالک کے نزدیک سب کاموں سے زیادہ عمدہ ہے، اور بہتر ہے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے، اور بہتر ہے اس سے کہ تم اپنے دشمن سے لڑ کر اس کی گردن مارو اور وہ تمہاری گردن مارے۔ کہا صحابہ رضی اللہ عنہم نے: ہاں، بتاؤ۔ کہا انہوں نے: ذکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو زیادہ نجات دینے والا ہو اس کو اللہ کے عذاب سے، سوا ذکرِ الٰہی کے۔