موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب القرآن— کتاب: قرآن کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ باب: قرآن کے بیان میں
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، فَيَفْصِمُ عَنِّي ، وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے: کس طرح وحی آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کبھی آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز، اور وہ نہایت سخت ہوتی ہے میرے اوپر، پھر جب موقوف ہو جاتی ہے تو میں یاد کر لیتا ہوں جو کہتا ہے، فرشتہ آدمی کی شکل بن کر مجھ سے باتیں کرتا ہے تو میں یاد کر لیتا ہوں جو کہتا ہے۔“ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: جب وحی اترتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت جاڑے کے دنوں میں، پھر جب موقوف ہوتی تھی تو پیشانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ بہتا تھا۔