موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب القرآن— کتاب: قرآن کے بیان میں
بَابُ الْأَمْرِ بِالْوُضُوءِ لِمَنْ مَسَّ الْقُرْآنَ باب: قرآن چھونے کے واسطے باوضو ہونا ضروری ہے
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنْ " لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ " حضرت عبداللہ بن ابی بکر بن حزم سے روایت ہے کہ جو کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھی تھی سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے واسطے اس میں یہ بھی تھا کہ: ”قرآن نہ چھوئے مگر جو شخص باوضو ہو۔“
قَالَ مَالِك : وَلَا يَحْمِلُ أَحَدٌ الْمُصْحَفَ بِعِلَاقَتِهِ وَلَا عَلَى وِسَادَةٍ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ ، وَلَوْ جَازَ ذَلِكَ لَحُمِلَ فِي خَبِيئَتِهِ ، وَلَمْ يُكْرَهْ ذَلِكَ إِلا أَنْ يَكُونَ فِي يَدَيِ الَّذِي يَحْمِلُهُ شَيْءٌ يُدَنِّسُ بِهِ الْمُصْحَفَ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لِمَنْ يَحْمِلُهُ وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ ، إِكْرَامًا لِلْقُرْآنِ وَتَعْظِيمًا لَهُامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کوئی شخص کلام اللہ کو فیتہ پکڑ کر یا تکیہ پر رکھ کر نہ اُٹھائے مگر وضو سے۔ اگر فیتہ پکڑ کر یا تکیہ پر رکھ کر بے وضو اُٹھانا درست ہوتا تو جلد کو بھی بے وضو چھونا درست ہوتا۔ اور بے وضو چھونا کلام اللہ کا اس لیے مکروہ ہے کہ اس کی عظمت اور شان کے خلاف ہے، نہ اس لیے کہ اُٹھانے والے کے ہاتھ میں کوئی نجاست ہو اور وہ مصحف میں لگ جائے۔
قَالَ مَالِك : أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : لا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ سورة الواقعة آية 79 إِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ هَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي فِي : عَبَسَ وَتَوَلَّى ، قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ { 11 } فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ { 12 } فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ { 13 } مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ { 14 } بِأَيْدِي سَفَرَةٍ { 15 } كِرَامٍ بَرَرَةٍ سورة عبس آية 11-16امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ احسن اس باب میں یہ آیت ہے: «﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ [الواقعة: 79]» ”نہیں چھوئیں اس کو مگر پاک لوگ۔“ اور یہ آیت قریب ہے اس آیت کے جو «﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾» میں ہے کہ «﴿كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ. فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ. فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ. مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ. بِأَيْدِي سَفَرَةٍ. كِرَامٍ بَرَرَةٍ﴾ [عبس: 12]» یعنی ”کلام اللہ ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے، بڑے عزت والے جلدوں میں، جو پاک ہیں بڑے بزرگ نیک پیغمبروں کے ہاتھ میں ہے۔“