موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ مَا لَا يَجِبُ فِيْهِ الْوُضُوْءِ باب: جن امور سے وضو لازم نہیں آتا ان کا بیان
حدیث نمبر: 46
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " حَنَّطَ ابْنًا لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَحَمَلَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك ، هَلْ فِي الْقَيْءِ وُضُوءٌ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ لِيَتَمَضْمَضْ مِنْ ذَلِكَ وَلْيَغْسِلْ فَاهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌعلامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خوشبو لگائی سیّدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے بچے کو جو میت تھا، اور اٹھایا اس کو، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ قے میں وضو ہے یا نہیں؟ کہا: وضو نہیں ہے مگر کلی کرے اور منہ دھو ڈالے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خوشبو لگائی سیّدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے بچے کو جو میت تھا، اور اٹھایا اس کو، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا... [موطا امام مالك: 46]
فائده:
معلوم ہوا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی جو یہ روایت ہے: «مَنْ غَسَّلَ مَيْتًا فَلْيَغْتَسِلْ وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضًا»
”جس نے میت کو غسل دیا وہ غسل کرے اور جو اُسے اٹھائے وہ وضو کرے۔“
[ترمذي: 993، اس كي سند حسن يا صحيح هے]
اس میں بیان شدہ حکم محض استحباب کے لیے ہے، یہ غسل اور وضو مستحب ہیں، واجب نہیں ہیں۔
معلوم ہوا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی جو یہ روایت ہے: «مَنْ غَسَّلَ مَيْتًا فَلْيَغْتَسِلْ وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضًا»
”جس نے میت کو غسل دیا وہ غسل کرے اور جو اُسے اٹھائے وہ وضو کرے۔“
[ترمذي: 993، اس كي سند حسن يا صحيح هے]
اس میں بیان شدہ حکم محض استحباب کے لیے ہے، یہ غسل اور وضو مستحب ہیں، واجب نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 46 سے ماخوذ ہے۔