موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الاستسقاء— کتاب: نماز استسقاء کے بیان میں
بَابُ الِاسْتِمْطَارِ بِالنُّجُومِ باب: ستاروں کی گردش سے پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا
حدیث نمبر: 453
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ : " إِذَا أَصْبَحَ وَقَدْ مُطِرَ النَّاسُ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْفَتْحِ ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ سورة فاطر آية 2 " علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جب صبح ہوتی تھی اور پانی برس جاتا تھا، پانی برسا اللہ کے حکم سے، پھر اس آیت کو پڑھتے تھے: «﴿مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا، وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ﴾ [فاطر: 2]» یعنی ”اللہ جل جلالہُ اگر لوگوں پر رحمت کرنا چاہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا، اور جو روکنا چاہے تو کوئی لے نہیں سکتا۔“