موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الاستسقاء— کتاب: نماز استسقاء کے بیان میں
بَابُ الِاسْتِمْطَارِ بِالنُّجُومِ باب: ستاروں کی گردش سے پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : قَالَ : " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی حدیبیہ میں، اور رات کو پانی پڑ چکا تھا، تو جب نماز سے فارغ ہوئے متوجہ ہوئے لوگوں کی طرف اور فرمایا: ”تم جانتے ہو جو کہا تمہارے پروردگار نے؟“ کہا: اللہ اور اس کے رسول کو معلوم ہے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”فرمایا اللہ جل جلالہُ نے، صبح کو میرے بندے دو قسم کے تھے، ایک وہ جو ایمان لایا میرے اوپر، دوسرے وہ جس نے کفر کیا ساتھ میرے، جس شخص نے کہا کہ پانی برسا اللہ کے فضل اور رحمت سے تو وہ میرے اوپر ایمان لایا، تاروں پر اعتقاد نہ رکھا، اور جو بولا کہ پانی برسا فلاں تارہ کی گردش سے تو اس نے کفر کیا میرے ساتھ اور ایمان لایا تاروں پر۔“