موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ مَا لَا يَجِبُ فِيْهِ الْوُضُوْءِ باب: جن امور سے وضو لازم نہیں آتا ان کا بیان
حدیث نمبر: 45
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، " أَنَّهُ رَأَى رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقْلِسُ مِرَارًا ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يَنْصَرِفُ وَلَا يَتَوَضَّأُ حَتَّى يُصَلِّيَ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ قَلَسَ طَعَامًا ، هَلْ عَلَيْهِ وُضُوءٌ ؟ فَقَالَ : لَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ وَلْيَتَمَضْمَضْ مِنْ ذَلِكَ وَلْيَغْسِلْ فَاهُعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کو دیکھا، کئی مرتبہ انہوں نے قے کی پانی کی اور وہ مسجد میں تھے، پھر وضو نہ کیا اور نماز پڑھ لی۔
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جس نے ادکا کھانے کو کیا اس پر وضو ہے؟ کہا: اس پر وضو نہیں ہے، بلکہ کلی کر ڈالے اور منہ دھو لے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کو دیکھا، کئی مرتبہ انہوں نے قے کی پانی کی اور وہ مسجد میں تھے، پھر وضو نہ کیا اور نماز پڑھ لی... [موطا امام مالك: 45]
فائدہ:
.... کیونکہ قَے، نکسیر، صفراوی مادہ یا خون اور پیپ وغیرہ کا نکلنا ناقض وضو نہیں ہے، ان سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
.... کیونکہ قَے، نکسیر، صفراوی مادہ یا خون اور پیپ وغیرہ کا نکلنا ناقض وضو نہیں ہے، ان سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 45 سے ماخوذ ہے۔