موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الاستسقاء— کتاب: نماز استسقاء کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ باب: استسقاء کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ ، يَقُولُ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " سیدنا عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے نمازِ استسقاء کے لئے اور اُلٹایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو جس وقت منہ کیا قبلہ کی طرف۔
وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ صَلَاةِ الْاسْتِسْقَاءِ كَمْ هِيَ ؟ فَقَالَ : رَكْعَتَانِ ، وَلَكِنْ يَبْدَأُ الْإِمَامُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْطُبُ قَائِمًا ، وَيَدْعُو وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ وَيُحَوِّلُ رِدَاءَهُ حِينَ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ ، وَيَجْهَرُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ ، وَإِذَا حَوَّلَ رِدَاءَهُ جَعَلَ الَّذِي عَلَى يَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، وَالَّذِي عَلَى شِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ ، وَيُحَوِّلُ النَّاسُ أَرْدِيَتَهُمْ إِذَا حَوَّلَ الْإِمَامُ رِدَاءَهُ وَيَسْتَقْبِلُونَ الْقِبْلَةَ وَهُمْ قُعُودٌامام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ نمازِ استسقاء کی کتنی رکعتیں ہیں؟ تو جواب دیا کہ دو رکعتیں ہیں، اور امام کو چاہئے کہ پہلے نماز پڑھے پھر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھے اور دعا مانگے قبلہ کے طرف، اور جب منہ کرے قبلہ کی طرف تو چادر کو اُلٹے اور دونوں رکعتوں میں جہر سے قراءت کرے، اور چادر کو اس طرح اُلٹے کہ داہنی طرف کا کنارہ بائیں طرف کرے اور بائیں طرف کا داہنی طرف، اور مقتدی بھی اسی طرح اپنی اپنی چادروں کو پلٹیں جب امام پلٹے ۔ اور منہ قبلہ کی طرف کریں بیٹھے بیٹھے۔