موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الخوف— کتاب: نماز خوف کے بیان میں
بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ باب: نماز خوف کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ ، قَالَ : " يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُصَلِّي بِهِمُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا ، فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلَا يُسَلِّمُونَ ، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا ، فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الْإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَتَقُومُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ ، فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّوْا رَكْعَتَيْنِ ، فَإِنْ كَانَ خَوْفًا هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا " . ¤قَالَ مَالِك : قَالَ نَافِعٌ : لَا أَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جب سوال ہوتا نمازِ خوف کا، کہتے امام آگے بڑھے نماز کو اور کچھ لوگ اس کے پیچھے ہوں تو اُن کے ساتھ امام ایک رکعت پڑھائے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے ہوں، تو جب وہ لوگ جو امام کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھ چکیں، دشمن کے سامنے چلے جائیں، اور سلام نہ پھیریں، اور وہ لوگ چلے آئیں جنہوں نے نماز نہیں شروع کی، اب وہ لوگ امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھیں، پھر امام سلام پھیر دے اور باری باری ہر ہر گروہ کے لوگ آکر ایک ایک رکعت اور پڑھ کر نماز اپنی تمام کریں تاکہ ہر ایک گروہ کی دو دو رکعتیں ہو جائیں اور اگر خوف بہت سخت ہو تو کھڑے کھڑے پیادے نماز پڑھ لیں اور اشارے سے، اور سوار سواری پر، اگرچہ ان کا منہ قبلہ کی طرف نہ ہو۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: نافع نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوگی۔