موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الخوف— کتاب: نماز خوف کے بیان میں
بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ باب: نماز خوف کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَهُ ، " أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ وَمَعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةٌ الْعَدُوَّ ، فَيَرْكَعُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ ، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ وَيَنْصَرِفُونَ ، وَالْإِمَامُ قَائِمٌ فَيَكُونُونَ وِجَاهَ الْعَدُوِّ ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا ، فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَيَرْكَعُ بِهِمُ الرَّكْعَةَ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يُسَلِّمُ ، فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ " سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نماز خوف کی اس طرح پر ہے کہ امام کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ نماز کو کھڑا کرے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہیں، تو امام ایک رکعت پڑھے اور سجدہ کرے، جب سجدہ سے کھڑا ہو تو امام کھڑا رہے اور مقتدی اپنی ایک رکعت جو باقی ہے پڑھ کر سلام پھیر کر چلے جائیں دشمن کے سامنے، اور دشمن کے سامنے جو لوگ تھے وہ آ کرتکبیرِ تحریمہ کہہ کر امام کے ساتھ شریک ہوں تو امام رکوع اور سجدہ سے فارغ ہو کر سلام پھیر دے، اور لوگ کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیریں۔