موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الخوف— کتاب: نماز خوف کے بیان میں
بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ باب: نماز خوف کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا ، وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ " اس شخص سے روایت ہے کہ جس نے نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ ذات الرقاع میں خوف کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے ہوئے نماز کو اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہے، تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھی اُن لوگوں کے ساتھ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے رہے اور وہ لوگ اپنی نماز پوری کر کے چلے گئے، اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے وہ آئے، اُن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے رہے اور اُن لوگوں نے ایک رکعت اور پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے ساتھ سلام پھیرا۔