موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العيدين— کتاب: عیدین کے بیان میں
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدَيْنِ وَبَعْدَهُمَا باب: قبل نماز عید کے اور بعد اس کے نفل پڑھنے کی اجازت
حدیث نمبر: 439
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ " كَانَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ " علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ وہ نفل پڑھتے تھے قبل نماز عید کے مسجد میں۔
قَالَ مَالِكٌ : مَضَتِ السُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا ، فِي وَقْتِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، أَنَّ الْإِمَامَ يَخْرُجُ مِنْ مَنْزِلِهِ قَدْرَ مَا يَبْلُغُ مُصَلَّاهُ ، وَقَدْ حَلَّتِ الصَّلَاةُعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ سنت جس میں ہمارے نزدیک اختلاف نہیں ہے یہ کہ امام عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے لیے اس وقت گھر سے نکلے کہ عیدگاہ تک پہنچتے پہنچتے نماز کا وقت آجائے۔
وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ ، هَلْ لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ قَبْلَ أَنْ يَسْمَعَ الْخُطْبَةَ؟ فَقَالَ : لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جس شخص نے نماز پڑھ لی عید الفطر کی امام کے ساتھ تو کیا وہ خطبہ سنے بغیر آ سکتا ہے؟ تو کہا: اس کو جائز نہیں ہے کہ قبل خطبہ سننے کے چلا آئے بلکہ جب امام لوٹے تو وہ بھی لوٹے۔