موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ التَّرْغِيبِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز کی ترغیب میں متفرق احادیث
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ، ثَائِرُ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ ؟ قَالَ : " لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، قَالَ : وَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ ، فَقَالَ : " هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ " ، قَالَ : فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ الرَّجُلُ إِنْ صَدَقَ " سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے تھے کہ آیا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجد کا رہنے والا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، اور اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی، لیکن اس کی بات سمجھ میں نہ آتی تھی یہاں تک کہ قریب آیا، تو وہ پوچھتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے معنی۔ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے: ”پانچ نمازیں پڑھنا رات دن میں۔“ تب وہ شخص بولا : سوا ان کے اور بھی کوئی نماز مجھ پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر نفل پڑھنا چاہے تو تو پڑھ۔“ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”اور روزے رمضان کے۔“ بولا: سوا ان کے اور بھی کوئی روزہ مجھ پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر اگر نفل رکھے۔“ پھر ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا۔ وہ شخص بولا: اس کے سوا بھی کچھ صدقہ مجھ پر فرض ہے؟ فرمایا: ”نہیں، مگر اگر تو نفل رکھے۔“ پس پیٹھ موڑ کر چلا وہ شخص، تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”بیڑا اس کا پار ہوا اگر سچ بولا۔“