حدیث نمبر: 424
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ كَانَ إِذَا مَرَّ عَلَيْهِ بَعْضُ مَنْ يَبِيعُ فِي الْمَسْجِدِ دَعَاهُ ، فَسَأَلَهُ : " مَا مَعَكَ , وَمَا تُرِيدُ ؟ " فَإِنْ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِسُوقِ الدُّنْيَا وَإِنَّمَا هَذَا سُوقُ الْآخِرَةِ "
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ عطاء بن یسار جب دیکھتے کسی شخص کو جو سودا بیچتا ہے مسجد میں، پھر بلاتے اس کو، پھر پوچھتے اس سے: کیا ہے تیرے پاس اور تو کیا چاہتا ہے؟ اگر وہ بولتا کہ میں بیچنا چاہتا ہوں، تو کہتے: جا تو دنیا کے بازار میں، یہ تو آخرت کا بازار ہے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب قصر الصلاة في السفر / حدیث: 424
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع ضعيف
شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ یہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے اور شیخ احمد علی سلیمان نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 389، فواد عبدالباقي نمبر: 9 - كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ-ح: 92»