موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الصَّلَاةِ باب: نماز سے متعلقہ احادیث کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فَهَلَكَ أَحَدُهُمَا قَبْلَ صَاحِبِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَذُكِرَتْ فَضِيلَةُ الْأَوَّلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَمْ يَكُنِ الْآخَرُ مُسْلِمًا " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُدْرِيكُمْ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ ، إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَاب أَحَدِكُمْ ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا تَرَوْنَ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ " سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دو بھائی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، ان میں سے ایک دوسرے سے چالیس دن پہلے مر گیا تو لوگوں نے تعریف کی اس کی جو پہلے مرا تھا۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا جانو دوسرے کی نماز نے اس کو کس درجہ پر پہنچایا؟ نماز کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نہر میٹھے پانی کی بہت گہری کسی کے دروازے پر بہتی ہو، اور وہ اس میں پانچ وقت غوطہ لگایا کرے، کیا اس کے بدن پر کچھ میل رہے گا؟ پھر تم کیا جانو کہ نماز نے دوسرے بھائی کا مرتبہ کس درجہ کو پہنچایا۔“