موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الصَّلَاةِ باب: نماز سے متعلقہ احادیث کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ لِإِنْسَانٍ : " إِنَّكَ فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ ، قَلِيلٌ قُرَّاؤُهُ ، تُحْفَظُ فِيهِ حُدُودُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُرُوفُهُ ، قَلِيلٌ مَنْ يَسْأَلُ كَثِيرٌ مَنْ يُعْطِي ، يُطِيلُونَ فِيهِ الصَّلَاةَ وَيَقْصُرُونَ الْخُطْبَةَ ، يُبَدُّونَ أَعْمَالَهُمْ قَبْلَ أَهْوَائِهِمْ ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ قُرَّاؤُهُ ، يُحْفَظُ فِيهِ حُرُوفُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُدُودُهُ ، كَثِيرٌ مَنْ يَسْأَلُ قَلِيلٌ مَنْ يُعْطِي ، يُطِيلُونَ فِيهِ الْخُطْبَةَ وَيَقْصُرُونَ الصَّلَاةَ ، يُبَدُّونَ فِيهِ أَهْوَاءَهُمْ قَبْلَ أَعْمَالِهِمْ " یحییٰ ابن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ایک شخص سے: تم ایسے زمانے میں ہو کہ عالم اس میں بہت ہیں، صرف لفظ پڑھنے والے کم ہیں، عمل کیا جاتا ہے قرآن کے حکموں پر، اور لفظوں کا ایسا خیال نہیں کیا جاتا، پوچھنے والے کم ہیں، جواب دینے والے بہت ہیں، یا بھیک مانگنے والے کم ہیں اور دینے والے بہت ہیں، لمبا کرتے ہیں نماز کو اور چھوٹا کرتے ہیں خطبہ کو، نیک عمل پہلے کرتے ہیں اور نفس کی خواہش کو مقدم نہیں کرتے، اور قریب ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کم ہوں گے عالم اس وقت میں، الفاظ پڑھنے والے بہت ہوں گے، یاد کیے جائیں گے الفاظ قرآن کے، اور اس کے حکموں پر عمل نہ کیا جائے گا، پوچھنے والے اور مانگنے والے بہت ہوں گے اور جواب دینے والے اور دینے والے بہت کم ہوں گے، لمبا کریں گے خطبہ کو اور چھوٹا کریں گے نماز کو، اپنی خواہشِ نفس پر چلیں گے اور عمل نیک نہ کریں گے۔