موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الصَّلَاةِ باب: نماز سے متعلقہ احادیث کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى ، وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ ، وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذْهُ مُصَلًّى ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ ؟ " فَأَشَارَ لَهُ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سیدنا محمود بن لبید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ امامت کرتے تھے اپنی قوم کی، اور ان کی بینائی میں ضعف تھا، کہا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے: کبھی اندھیرا یا پانی یا بہاؤ ہوتا ہے اور میری بینائی میں فرق ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں کسی مقام پر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنا مصلیٰ بناؤں۔ پس آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کہا: ”کس جگہ تم پسند کرتے ہو نماز میری؟“ انہوں نے ایک جگہ بتا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھ دی۔