موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِي جَامِعِ الصَّلَاةِ باب: متفرق حدیثیں نماز کی
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى جِدَارِ الْقِبْلَةِ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ قِبَلِ شِقِّي الْأَيْسَرِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِكَ ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ : رَأَيْتُكَ فَانْصَرَفْتُ إِلَيْكَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " فَإِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ إِنَّ قَائِلًا يَقُولُ : انْصَرِفْ عَنْ يَمِينِكَ فَإِذَا كُنْتَ تُصَلِّي ، فَانْصَرِفْ حَيْثُ شِئْتَ إِنْ شِئْتَ عَنْ يَمِينِكَ ، وَإِنْ شِئْتَ عَنْ يَسَارِكَ حضرت واسع بن حبان سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قبلہ کی طرف پیٹھ کئے ہوئے بیٹھے تھے، تو جب نماز سے میں فارغ ہوا بائیں طرف سے مڑ کر ان کے پاس گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: تو داہنی طرف سے مڑ کر کیوں نہ آیا؟ میں نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر بائیں طرف سے مڑ کر چلا آیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو نے اچھا کیا، ایک صاحب کہتے ہیں کہ جب نماز پڑھ چکے تو داہنی طرف سے مڑ، مگر تو جب نماز پڑھے تو جدھر سے چاہے مڑ کر جا، داہنی طرف سے یا بائیں طرف سے۔