حدیث نمبر: 38
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، " أَنَّ تَفْسِيرَ هَذِهِ الْآيَةِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ سورة المائدة آية 6 : أَنَّ ذَلِكَ إِذَا قُمْتُمْ مِنَ الْمَضَاجِعِ ، يَعْنِي النَّوْمَ "
علامہ وحید الزماں

حضرت زید بن اسلم نے فرمایا کہ جو اللہ جل جلالہُ نے فرمایا کہ ”جب اٹھو تم نماز کے لیے تو دھوؤ منہ اپنا، اور ہاتھ اپنے کہنیوں تک، اور مسح کرو سروں پر، اور دھوؤ پاؤں اپنے ٹخنوں تک۔“ اس سے یہ غرض ہے کہ جب اٹھو نماز کے لیے سو کر۔

قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا يَتَوَضَّأُ مِنْ رُعَافٍ ، وَلَا مِنْ دَمٍ ، وَلَا مِنْ قَيْحٍ يَسِيلُ مِنَ الْجَسَدِ ، وَلَا يَتَوَضَّأُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ يَخْرُجُ مِنْ ذَكَرٍ ، أَوْ دُبُرٍ أَوْ نَوْمٍ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک نکسیر پھوٹنے یا خون نکلنے یا پیپ بہنے سے وضو لازم نہیں آتا، بلکہ وضو نہ کرے، مگر اس گندگی سے جو دبر یا ذکر سے نکلے یا سو جائے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 38
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 38، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 578، والدارقطني فى «سننه» برقم: 90، 91، شركة الحروف نمبر: 35، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 10ب» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت زید بن اسلم نے فرمایا کہ جو اللہ جل جلالہُ نے فرمایا کہ "جب اٹھو تم نماز کے لیے تو دھوؤ منہ اپنا، اور ہاتھ اپنے کہنیوں تک، اور مسح کرو سروں پر، اور دھوؤ پاؤں اپنے ٹخنوں تک۔" اس سے یہ غرض ہے کہ جب اٹھو نماز کے لیے سو کر۔ [موطا امام مالك: 37]
فائدہ:

.... زید بن اسلم رحمہ اللہ کی یہ تفسیر صرف ایک پہلو کے اعتبار سے ہے، جبکہ تمام دلائل شرعیہ کو سامنے رکھ کر جمہور مفسرین اس کا یہ مفہوم بیان کرتے ہیں: «إِذَا أَرَدْتُمُ الْقِيَامَ مُحْدِتين»

"یعنی جب تم بے وضو ہو اور نماز کی طرف کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو وضو کر لو۔"

بہر حال امام مالک رحمہ اللہ اس روایت سے بھی نیند کا ناقضِ وضو ہونا ثابت کر رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 38 سے ماخوذ ہے۔