موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ وُضُوءِ النَّائِمِ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ باب: جو کوئی سو کر نماز کے لیے اٹھے اس کے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 37
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ مُضْطَجِعًا فَلْيَتَوَضَّأْ " علامہ وحید الزماں
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ کہا سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے: جو شخص تم میں سے سو جائے لیٹ کر تو وضو کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 37
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ کہا سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے: جو شخص تم میں سے سو جائے لیٹ کر تو وضو کرے۔ [موطا امام مالك: 37]
فائدہ:
....... بہت سے دلائل سے ثابت ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
[ابو داود: 203، ترمذي: 96، ابن ماجه: 477، وغيره]
لیکن یہ بھی ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نمازِ عشاء کا انتظار کرتے کرتے سو جاتے، پھر بغیر وضو کے نماز پڑھ لیتے۔ [مسلم: 376، ابو داود: 200، ترمذي: 78]
اسی بنا پر اس مسئلے میں مختلف اقوال ہیں.......
ہمارے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ وہ نیند جو گہری ہو اور جس سے آدمی کا شعور و احساس ختم ہو جائے، اُس سے وضو ٹوٹ جائے گا، خواہ وہ لیٹ کر ہو یا بیٹھے بیٹھے ہو، اور حقیقت میں نیند کہتے بھی اسی کو ہیں، یعنی نیند ایسا ثقیل پردہ ہے جس کا دل پر اچانک آ جانا اُسے ظاہری امور کی معرفت سے کاٹ دیتا ہے، رہی وہ نیند جس سے آدمی کا شعور باقی رہتا ہے جیسا کہ عموماً خطبہ وسبق کے دوران ہوتا ہے کہ سننے والا سو بھی رہا ہوتا ہے اور یہ بھی محسوس کر رہا ہوتا ہے کہ میں سن رہا ہوں اور اس حالت میں اُسے آواز دی جائے تو فوراً جواب بھی دے دیتا ہے، بلکہ تازہ سنے ہوئے بعض الفاظ بھی بتا دیتا ہے تو ایسی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، خواہ وہ لیٹ کر ہو یا ٹیک لگا کر اور در اصل اسی کو نُعاس یعنی اونگھ کہتے ہیں۔
[فتاوي ابن باز مترجم: 49/1]
....... بہت سے دلائل سے ثابت ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
[ابو داود: 203، ترمذي: 96، ابن ماجه: 477، وغيره]
لیکن یہ بھی ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نمازِ عشاء کا انتظار کرتے کرتے سو جاتے، پھر بغیر وضو کے نماز پڑھ لیتے۔ [مسلم: 376، ابو داود: 200، ترمذي: 78]
اسی بنا پر اس مسئلے میں مختلف اقوال ہیں.......
ہمارے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ وہ نیند جو گہری ہو اور جس سے آدمی کا شعور و احساس ختم ہو جائے، اُس سے وضو ٹوٹ جائے گا، خواہ وہ لیٹ کر ہو یا بیٹھے بیٹھے ہو، اور حقیقت میں نیند کہتے بھی اسی کو ہیں، یعنی نیند ایسا ثقیل پردہ ہے جس کا دل پر اچانک آ جانا اُسے ظاہری امور کی معرفت سے کاٹ دیتا ہے، رہی وہ نیند جس سے آدمی کا شعور باقی رہتا ہے جیسا کہ عموماً خطبہ وسبق کے دوران ہوتا ہے کہ سننے والا سو بھی رہا ہوتا ہے اور یہ بھی محسوس کر رہا ہوتا ہے کہ میں سن رہا ہوں اور اس حالت میں اُسے آواز دی جائے تو فوراً جواب بھی دے دیتا ہے، بلکہ تازہ سنے ہوئے بعض الفاظ بھی بتا دیتا ہے تو ایسی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، خواہ وہ لیٹ کر ہو یا ٹیک لگا کر اور در اصل اسی کو نُعاس یعنی اونگھ کہتے ہیں۔
[فتاوي ابن باز مترجم: 49/1]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 37 سے ماخوذ ہے۔