موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي باب: نمازی کے سامنے سے گزر جانے کی اجازت
حدیث نمبر: 368
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ " كَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصُّفُوفِ وَالصَّلَاةُ قَائِمَةٌ " .¤ قَالَ مَالِك : وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، وَبَعْدَ أَنْ يُحْرِمَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَجِدِ الْمَرْءُ مَدْخَلًا إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا بَيْنَ الصُّفُوفِعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ صفوں کے سامنے سے گزر جاتے تھے نماز میں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں اس فعل کو جائز جانتا ہوں اس صورت میں کہ نماز کھڑی ہو جائے اور امام تکبیرِ تحریمہ کہہ لے اور آدمی کو اندر جانے کی جگہ نہ ملے بغیر صفوں کے سامنے سے جاتے ہوئے۔