موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي باب: نمازی کے سامنے سے گزر جانے کی اجازت
حدیث نمبر: 367
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الْاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور عمر میری قریبِ بلوغ کے تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے منیٰ میں، تو گزر گیا میں تھوڑی صف کے سامنے سے، پھر اترا میں اور چھوڑ دیا گدھی کو، وہ چرتی رہی اور میں صف میں شریک ہوگیا، بعد نماز کے کسی نے کچھ برا نہ مانا۔