موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ سُبْحَةِ الضُّحَىٰ باب: نماز چاشت کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی نانی ملیکہ نے دعوت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی، پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا، پھر فرمایا : ”کھڑے ہوجا کہ میں نماز پڑھوں تمہارے واسطے۔“ کہا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے: پس کھڑا ہوا میں ایک بوریا لے کر جو سیاہ ہو گیا تھا بوجہ پرانا ہونے کے، تو بھگویا میں نے اس کو پانی سے، اور کھڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر، اور صف باندھی میں نے اور یتیم نے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے، اور بڑھیا نے پیچھے ہمارے، تو پڑھائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں، پھر چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔