موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَىٰ باب: چاشت کی نماز کا بیان (جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں ، وقت اس کا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے)
حدیث نمبر: 358
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ ، وَإِنِّي لَأَسْتَحِبُّهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ ، خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ " علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو درست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہو جائے۔