حدیث نمبر: 35
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " يَتَوَضَّأُ بِالْمَاءِ لِمَا تَحْتَ إِزَارِهِ " .
علامہ وحید الزماں

حضرت عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ پانی سے دھوئے اپنے ستر کو۔

قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَنَسِيَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ أَوْ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَ وَجْهَهُ ، فَقَالَ : وأَمَّا الَّذِي غَسَلَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ فَلْيُمَضْمِضْ ، وَلَا يُعِدْ غَسْلَ وَجْهِهِ ، وَأَمَّا الَّذِي غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ قَبْلَ وَجْهِهِ فَلْيَغْسِلْ وَجْهَهُ ، ثُمَّ لِيُعِدْ غَسْلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى يَكُونَ غَسْلُهُمَا بَعْدَ وَجْهِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي مَكَانِهِ ، أَوْ بِحَضْرَةِ ذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں

کہا یحییٰ نے، پوچھے گئے امام مالک رحمہ اللہ اس شخص سے جس نے وضو کیا تو بھول کر قبل کلی کرنے کے منہ دھو لیا، یا پہلے ہاتھ دھو لیے اور منہ نہ دھویا، کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس شخص نے منہ دھو لیا کلی کرنے سے پیشتر تو وہ کلی کرے اور دوبارہ منہ نہ دھوئے۔ لیکن جس نے ہاتھ دھو لیے منہ دھونے سے پیشتر تو اس کو چاہیے کہ منہ دھو کر ہاتھوں کو دوبارہ دھوئے تاکہ دھونا ہاتھ کا بعد دھونے منہ کے ہو جائے، جب تک وضو کرنے والا اپنی جگہ میں ہے یا قریب اس کے۔

قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ وَيَسْتَنْثِرَ حَتَّى صَلَّى ، قَالَ : لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُعِيدَ صَلَاتَهُ ، وَلْيُمَضْمِضْ وَيَسْتَنْثِرْ مَا يَسْتَقْبِلُ إِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ
علامہ وحید الزماں

کہا یحییٰ نے: پوچھے گئے امام مالک رحمہ اللہ اس شخص سے جو وضو میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا اور نماز پڑھ لی۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہو گئی نماز اس کی، دوبارہ پھر نماز پڑھنا لازم نہیں، لیکن آئندہ کی نماز کے واسطے کلی کر لے یا ناک میں پانی ڈال لے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 35
درجۂ حدیث محدثین: موقوف حسن
تخریج حدیث «موقوف حسن، و أخرجه التاريخ الكبير للبخاري : 237/6، الأوسط لابن المنذر: 349/1، شركة الحروف نمبر: 32، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 6» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان احمد نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ پانی سے دھوئے اپنے ستر کو۔ [موطا امام مالك: 35]
فائدہ:

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہاء سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کی کراہت یا ممانعت منقول ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اُن کا ردّ کر رہا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنا بہت سے دلائل سے ثابت ہے، [مثلاً بخاري: 150، مسلم: 270، ترمذي: 14، وغيره] اور اہلِ قباء کے طہارت حاصل کرنے کی اللہ تعالٰی نے [سورة توبه: 108] میں تعریف فرمائی ہے اور اُن سے اظہار محبت کا اعلان فرمایا ہے اور وہ پانی استعمال کیا کرتے تھے۔

[ابوداود: 44، ترمذي: 3100، ابن ماجه: 357، اس كي سند صحيح هے۔]

جمہور سلف و خلف اور اہل فتوی کا اس پر اجماع ہے کہ پانی اور ڈھیلوں کو اکٹھا کرنا جائز بلکہ افضل ہے یعنی پہلے ڈھیلوں سے صفائی کی جائے، پھر پانی استعمال کیا جائے، اس طرح صفائی بھی مکمل ہو جاتی ہے اور مٹی سے جراثیم کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے، پھر اس سے ذرا کم فضیلت صرف پانی استعمال کرنے سے ملتی ہے اور اس سے بھی کم صرف ڈھیلوں کا استعمال ہے، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں چیزوں کو اکٹھا استعمال کرنا روایات میں منقول نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 35 سے ماخوذ ہے۔