موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِی الْوُضُوْءِ باب: وضوء کی ترکیب کا بیان
حدیث نمبر: 35
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " يَتَوَضَّأُ بِالْمَاءِ لِمَا تَحْتَ إِزَارِهِ " .علامہ وحید الزماں
حضرت عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ پانی سے دھوئے اپنے ستر کو۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 35
درجۂ حدیث محدثین: موقوف حسن
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ پانی سے دھوئے اپنے ستر کو۔ [موطا امام مالك: 35]
فائدہ:
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہاء سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کی کراہت یا ممانعت منقول ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اُن کا ردّ کر رہا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنا بہت سے دلائل سے ثابت ہے، [مثلاً بخاري: 150، مسلم: 270، ترمذي: 14، وغيره] اور اہلِ قباء کے طہارت حاصل کرنے کی اللہ تعالٰی نے [سورة توبه: 108] میں تعریف فرمائی ہے اور اُن سے اظہار محبت کا اعلان فرمایا ہے اور وہ پانی استعمال کیا کرتے تھے۔
[ابوداود: 44، ترمذي: 3100، ابن ماجه: 357، اس كي سند صحيح هے۔]
جمہور سلف و خلف اور اہل فتوی کا اس پر اجماع ہے کہ پانی اور ڈھیلوں کو اکٹھا کرنا جائز بلکہ افضل ہے یعنی پہلے ڈھیلوں سے صفائی کی جائے، پھر پانی استعمال کیا جائے، اس طرح صفائی بھی مکمل ہو جاتی ہے اور مٹی سے جراثیم کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے، پھر اس سے ذرا کم فضیلت صرف پانی استعمال کرنے سے ملتی ہے اور اس سے بھی کم صرف ڈھیلوں کا استعمال ہے، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں چیزوں کو اکٹھا استعمال کرنا روایات میں منقول نہیں ہے۔
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہاء سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کی کراہت یا ممانعت منقول ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اُن کا ردّ کر رہا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنا بہت سے دلائل سے ثابت ہے، [مثلاً بخاري: 150، مسلم: 270، ترمذي: 14، وغيره] اور اہلِ قباء کے طہارت حاصل کرنے کی اللہ تعالٰی نے [سورة توبه: 108] میں تعریف فرمائی ہے اور اُن سے اظہار محبت کا اعلان فرمایا ہے اور وہ پانی استعمال کیا کرتے تھے۔
[ابوداود: 44، ترمذي: 3100، ابن ماجه: 357، اس كي سند صحيح هے۔]
جمہور سلف و خلف اور اہل فتوی کا اس پر اجماع ہے کہ پانی اور ڈھیلوں کو اکٹھا کرنا جائز بلکہ افضل ہے یعنی پہلے ڈھیلوں سے صفائی کی جائے، پھر پانی استعمال کیا جائے، اس طرح صفائی بھی مکمل ہو جاتی ہے اور مٹی سے جراثیم کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے، پھر اس سے ذرا کم فضیلت صرف پانی استعمال کرنے سے ملتی ہے اور اس سے بھی کم صرف ڈھیلوں کا استعمال ہے، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں چیزوں کو اکٹھا استعمال کرنا روایات میں منقول نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 35 سے ماخوذ ہے۔