موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ مَا يَجِبُ فِيهِ قَصْرُ الصَّلَاةِ باب: قصر کی مسافت کا بیان
حدیث نمبر: 342
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ " كَانَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ فِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ ، وَالطَّائِفِ ، وَفِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ ، وَعُسْفَانَ ، وَفِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ ، وَجُدَّةَ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا تُقْصَرُ إِلَيَّ فِيهِ الصَّلَاةُعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قصر کرتے تھے نماز کا اس قدر مسافت میں جتنی مکہ اور طائف کے بیچ میں ہے، اور جتنی مکہ اور عسفان کے بیچ میں ہے، اور جتنی مکہ اور جدہ کے بیچ میں ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے بہت پسند ہے قصر کے باب میں اور یہ سب مسافتیں چار چار برد کی ہوں گی۔
قَالَ مَالِك : لَا يَقْصُرُ الَّذِي يُرِيدُ السَّفَرَ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ بُيُوتِ الْقَرْيَةِ وَلَا يُتِمُّ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلَ بُيُوتِ الْقَرْيَةِ أَوْ يُقَارِبَ ذَلِكَعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: نہ قصر کرے مسافر نماز کا جب تک نکل نہ جائے آبادی سے شہر کی، اور نہ ترک کرے قصر کو جب تک آبادی میں شہر کی داخل نہ ہو یا اس کے قریب نہ ہو جائے۔