حدیث نمبر: 34
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ "
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو پہنچا کہ سیّدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما گئے اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جس دن مرے سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، تو منگایا سیّدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے پانی وضو کا، پس کہا سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے: پورا کرو وضو کو کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”خرابی ہے ایڑیوں کو آگ سے۔“

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 34
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، و أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 240، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 451، 452، وأحمد فى «مسنده» برقم:81، 84، 99، شركة الحروف نمبر: 31/2، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 5»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
امام مالک رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو پہنچا کہ سیّدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما گئے اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جس دن مرے سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، تو منگایا سیّدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے پانی وضو کا... [موطا امام مالك: 34]
فائدہ:

.......... یعنی اگر ایڑیاں خشک رہ جائیں تو اُن کو جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا، اندازہ کیجیے کہ یہ اُن لوگوں کی سزا ہے جو نماز کے لیے وضو کرتے ہیں لیکن وضو میں کمی کر بیٹھتے ہیں، تو جو لوگ سرے سے ہی نماز اور وضو کے قریب بھی نہیں جاتے اُن کا کیا حال ہو گا، بہر حال تمام اعضائے وضو کا حکم بھی ایڑیوں جیسا ہی ہے، ان کا خاص تذکرہ صرف اس لیے کیا گیا کہ ان کے دھونے میں زیادہ کوتاہی برتی جاتی ہے۔ نیز یہ حدیث اس بارے میں نص ہے کہ وضو کرتے وقت اگر باوضو حالت میں پہنے ہوئے موزے یا جرابیں پاؤں پر پہنی ہوئی نہ ہوں تو مکمل پاؤں کو دھونا لازم ہے، ننگے پاؤں کا مسح قطعاً جائز نہیں اور شیعہ کا ننگے پاؤں پر مسح کرنا باعث جہنم ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 34 سے ماخوذ ہے۔