موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب قصر الصلاة في السفر— کتاب: سفر میں قصر نماز کے بیان میں
بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ " علامہ وحید الزماں
حضرت امیہ بن عبداللہ نے پوچھا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ہم پاتے ہیں خوف کی نماز اور حضر کی نماز کو قرآن میں اور نہیں پاتے ہیں ہم سفر کی نماز کو قرآن میں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ اے بھتیجے میرے! اللہ جل جلالہُ نے بھیجا ہماری طرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے، پس کرتے ہیں ہم جس طرح ہم نے دیکھا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے۔