موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الجماعة— کتاب: باجماعت نماز کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِي صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ باب: جماعت سے نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 302
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ " رَجُلًا كَانَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِالْعَقِيقِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَنَهَاهُ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا نَهَاهُ لِأَنَّهُ كَانَ لَا يُعْرَفُ أَبُوهُعلامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا عقیق (ایک جگہ ہے مدینہ میں) میں، تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کو امامت سے منع کروا بھیجا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: منع کروا بھیجا اس کو امامت سے اس لیے کہ اس کا باپ معلوم نہ ہوتا تھا۔