حدیث نمبر: 30
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّّرِ ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " إِذَا رَأَى الْإِنْسَانَ يُغَطي فَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي جَبَذَ الثَّوْبَ عَنْ فِيهِ جَبْذًا شَدِيدًا ، حَتَّى يَنْزِعَهُ عَنْ فِيهِ "
علامہ وحید الزماں

حضرت عبدالرحمٰن بن مجبر سے روایت ہے کہ سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب کسی کو دیکھتے تھے کہ منہ اپنا ڈھانپے ہے نماز میں، تو کھینچ لیتے تھے کپڑا زور سے، یہاں تک کہ کھل جاتا اس کا منہ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب وقوت الصلاة / حدیث: 30
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 30، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7300، 7379، شركة الحروف نمبر: 28، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 30ب» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت عبدالرحمٰن بن مجبر سے روایت ہے کہ سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب کسی کو دیکھتے تھے کہ منہ اپنا ڈھانپے ہے نماز میں، تو کھینچ لیتے تھے کپڑا زور سے، یہاں تک کہ کھل جاتا اس کا منہ۔ [موطا امام مالك: 30]
فائدہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهٰى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنْ يُغَطِيَ الرَّجُلُ فَاهُ» "يقينا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا لٹکانے سے اور اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے منہ کو ڈھانپ کر رکھے۔" [ابو داؤد: 643، اس كي سند حسن هے]

یہ ڈھانپنا خواہ ہاتھ سے ہو یا کپڑے سے، دونوں طرح ہی منع ہے، کیونکہ منہ کو ہاتھ سے ڈھانپا جائے تو نماز میں ہاتھوں کے رکھنے کے حوالے سے سنتِ نبویہ کا ترک لازم آئے گا اور اگر منہ کو کپڑے سے ڈھانپا جائے تو مجوسیوں سے مشابہت لازم آتی ہے جو بوقت عبادت منہ ڈھانپ لیتے ہیں، البتہ جمائی آ جائے تو ہاتھ سے منہ کو ڈھانپنا مستثٰنی ہے۔ [صحيح مسلم: 2995]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 30 سے ماخوذ ہے۔