موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الجماعة— کتاب: باجماعت نماز کے بیان میں
بَابُ إِعَادَةِ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ باب: امام کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 299
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ فَلَا يَعُدْ لَهُمَا " علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جو شخص مغرب یا صبح کی نماز پڑھ لے، پھر ان دونوں جماعتوں کو پائے تو دوبارہ نہ پڑھے۔
قَالَ مَالِك : وَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ الْإِمَامِ مَنْ كَانَ قَدْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، فَإِنَّهُ إِذَا أَعَادَهَا كَانَتْ شَفْعًاعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھ لے اکیلے پھر پائے نماز کو ساتھ امام کے تو دوبارہ پڑھ لینے میں کچھ حرج نہیں، مگر مغرب کی نماز کیونکہ وہ دوبارہ پڑھنے میں طاق نہ رہے گی بلکہ تین دوگانہ ہو جائیں گے۔