موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الجماعة— کتاب: باجماعت نماز کے بیان میں
بَابُ إِعَادَةِ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ باب: امام کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 297
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، فَقَالَ : إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِ الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الْإِمَامَ يُصَلِّي ، أَفَأُصَلِّي مَعَهُ ؟ فَقَالَ سَعِيدٌ : نَعَمْ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : فَأَيُّهُمَا صَلَاتِي ؟ فَقَالَ سَعِيدٌ : " أَوَ أَنْتَ تَجْعَلُهُمَا ، إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ "علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد میں آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھتا ہوا پاتا ہوں، تو کیا پھر اس کے ساتھ نماز پڑھوں؟ حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ نے کہا: ہاں۔ تو اس شخص نے کہا کہ پھر میں کس نماز کو فرض سمجھوں؟ حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ نے کہا کہ تو فرض اور نفل کر سکتا ہے؟ یہ کام اللہ جل جلالہُ کا ہے۔