موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الجماعة— کتاب: باجماعت نماز کے بیان میں
بَابُ إِعَادَةِ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ باب: امام کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ لَمْ يُصَلِّ مَعَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ؟ " فَقَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ " حضرت محجن بن ابی محجن سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں نماز کے لئے اذان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور نماز پڑھ کر آئے تو دیکھا کہ محجن وہیں بیٹھے ہیں، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سب لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ محجن نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں نہیں، لیکن میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو مسجد میں آئے تو نماز پڑھ لوگوں کے ساتھ اگرچہ تو پہلے پڑھ چکا ہو۔“